السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
جماع أبواب القصاص فيما دون النفس باب: جان کے علاوہ دیگر اعضاء کے قصاص کے ابواب کا جامع بیان۔
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ} [المائدة: 45] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ أَعْلَمْ خِلَافًا فِي أَنَّ الْقِصَاصَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ، كَمَا حَكَى اللهُ، أَنَّهُ حُكِمَ بِهِ بَيْنَ أَهْلِ التَّوْرَاةِ، وَذَكَرَ أَيْضًا مَعْنَى مَا.اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ﴾ ”اور ہم نے اس (تورات) میں ان پر فرض کر دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت ہے، اور زخموں میں (بھی) قصاص ہے۔“ [سورة المائدة: 45]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور مجھے اس بات میں کسی اختلاف کا علم نہیں کہ اس آیت میں مذکور قصاص، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے، اہلِ تورات کے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کیا جاتا تھا۔“ اور انہوں نے اس کا مفہوم بھی ذکر کیا جو...
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ظَلَمَنِي عَامِلُكَ وَضَرَبَنِي فَقَالَ عُمَرُ: وَاللهِ لَأُقِيدَنَّكَ مِنْهُ إِذًا فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَتُقِيدُ مِنْ عَامِلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَاللهِ لَأُقِيدَنَّ مِنْهُمْ، أَقَادَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ، وَأَقَادَ أَبُو بَكْرٍ مِنْ نَفْسِهِ، أَفَلَا ⦗١١٢⦘ أُقِيدُ؟ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: أَوَغَيْرُ ذَلِكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: " وَمَا هُوَ؟ قَالَ: أَوَمَا يُرْضِيهِ؟ قَالَ: أَوْ ذَلِكَ " هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ رُوِّينَاهُ مَوْصُولًا وَمُرْسَلًا فِي بَابِ قَتْلِ الْإِمَامِ.ابو نضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ منبر پر کھڑے تھے، کہنے لگا کہ آپ کے عامل نے مجھے مارا ہے اور مجھ پر ظلم کیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اللہ کی قسم! تمہیں ضرور قصاص لے کر دوں گا۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے امیر المؤمنین! کیا آپ اپنے عامل سے قصاص لیں گے؟ فرمایا: ہاں، میں اس سے ضرور قصاص لوں گا۔ رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خود قصاص دیا ہے، تو کیا میں اس سے قصاص نہ لوں؟ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو سکتا؟ پوچھا: وہ کیا؟ فرمانے لگے: جس پر وہ رضا مند ہو جائے۔ فرمایا: ٹھیک ہے، جس پر مظلوم رضا مند ہو جائے۔