السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: القصاص بغير السيف باب: تلوار کے علاوہ کسی اور چیز سے قصاص لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا هَمَّامٌ، أنبأ قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَهْطًا، مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: إِنَّا قَدِ اجْتَوَيْنَا الْمَدِينَةَ فَعَظُمَتْ بُطُونُنَا، وَتَهَشَّمَتْ أَعْضَاؤُنَا فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَلْحَقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا قَالَ: فَلَحِقُوا بِرَاعِي الْإِبِلِ فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا حَتَّى صَلَحَتْ بُطُونُهُمْ وَأَلْوَانُهُمْ، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الْإِبِلَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ، زَادَ فِيهِ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ: وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عُرینہ قبیلے کی ایک جماعت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”ہم نے مدینہ کو اپنا مسکن بنایا، ہمارے پیٹ بڑھ گئے، اعضا کمزور ہو گئے۔“ آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ: ”اونٹوں کے چرواہے کے ساتھ رہو اور ان کا دودھ اور پیشاب ملا کر پیو۔“ وہ چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا، وہ صحیح ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ جب یہ بات آپ ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے انہیں گرفتار کروایا، ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں۔
قتادہ رحمہ اللہ کی روایت میں یہ بھی ہے کہ ان کو دھوپ میں پھینک دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے۔