السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: من زعم أن للكبار أن يقتصوا قبل بلوغ الصغار باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک بڑے (بالغ ورثاء) چھوٹے ورثاء کے بالغ ہونے سے پہلے قصاص لینے کا حق رکھتے ہیں۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَتَلَ ابْنَ مُلْجَمٍ بِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ أَبُو يُوسُفَ: وَكَانَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَوْلَادٌ صِغَارٌ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِنَا: إِنَّمَا اسْتَبَدَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَقَتْلِهِ قَبْلَ بُلُوغِ الصِّغَارِ مِنْ وَلَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ قَتَلَهُ حَدًّا لِكُفْرِهِ لَا قِصَاصًا،.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ایک آدمی سے، اس نے ابو جعفر سے روایت کیا کہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے ابن ملجم کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بدلے میں قتل کیا۔“
امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کچھ چھوٹے (نابالغ) بچے بھی تھے۔“
ہمارے بعض اصحاب نے کہا: ”سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی چھوٹی اولاد کے بالغ ہونے سے پہلے اکیلے ہی اسے قتل کرنے کا فیصلہ صرف اس لیے کیا کہ انہوں نے اسے اس کے کفر کی وجہ سے بطورِ حد قتل کیا تھا، نہ کہ بطورِ قصاص۔“
وَاحْتَجُّوا فِي ذَلِكَ بِمَا: ⦗١٠٤⦘ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْقَارِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، أَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أَبَا سِنَانٍ الدُّؤَلِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ عَادَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي شَكْوًى لَهُ اشْتَكَاهَا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَقَدْ تَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي شَكْوَاكَ هَذَا فَقَالَ: لَكِنِّي وَاللهِ مَا تَخَوَّفْتُ عَلَى نَفْسِي مِنْهُ؛ لِأَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ: " إِنَّكَ سَتُضْرَبُ ضَرْبَةً هَاهُنَا، وَضَرْبَةً هَاهُنَا، وَأَشَارَ إِلَى صُدْغَيْهِ، فَيَسِيلُ دَمُهَا حَتَّى يَخْضِبَ لِحْيَتَكَ، وَيَكُونُ صَاحِبُهَا أَشْقَاهَا كَمَا كَانَ عَاقِرُ النَّاقَةِ أَشْقَى ثَمُودَ ".ابو سنان دؤلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے کے بعد ان کی عیادت کی اور کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! آپ کی اس تکلیف کا ہمیں خوف ہے (کہ اسی تکلیف میں آپ شہید نہ ہوجائیں) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ”واللہ! مجھے تو اپنے نفس کا کوئی خوف نہیں؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سن رکھا ہے کہ ”عنقریب تجھے یہاں یہاں مارا جائے گا“ — آپ ﷺ کا اشارہ کنپٹی کی طرف تھا — ”اور داڑھی خون سے تر ہوجائے گی اور تیرا صاحب سب سے زیادہ بدبخت ہوگا جس طرح قومِ ثمود میں اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا بدبخت ترین انسان تھا۔““