السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: ما جاء في الترغيب في العفو عن القصاص باب: قصاص معاف کر دینے کی ترغیب کے متعلق وارد شدہ روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 16049
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، قَالَ: لَا أَعْلَمُ إِلَّا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِصَاصٌ قَطُّ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ قَالَ: قُلْتُ لِعَفَّانَ: " مَنْ يَشُكُّ فِيهِ؟ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: كُنْتُ أَقُولُ عَنْ أَنَسٍ، فَقَالُوا لِي: لَا تَشُكَّ فِيهِ؟ فَقُلْتُ: لَا أَعْلَمُ، وَكَانَ رَجُلًا مُتَوَقِّيًا كَيِّسًا.حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی میمونہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے صرف سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پتہ چلا کہ جب بھی آپ ﷺ کے پاس قصاص کا فیصلہ آیا تو آپ نے اس میں درگزری کا مشورہ دیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عفان رحمہ اللہ سے عرض کیا: ”اس میں کس کو شک ہے؟“ فرماتے ہیں کہ عبداللہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ”میں یہ کہتا تھا کہ «عَنْ أَنَسٍ» ”انس (رضی اللہ عنہ) سے““ تو انہوں نے فرمایا: ”اس میں شک نہ کر۔“ میں نے کہا: ”میں اسے نہیں جانتا“ اور وہ نہایت ذہین اور فطین آدمی تھے۔