السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: شبه العمد باب: شبہ عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے کے مشابہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 16003
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَكِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ⦗٨٢⦘ عَبْدِ اللهِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " شِبْهُ الْعَمْدِ مُغَلَّظَةٌ، وَلَا يُقْتَلُ بِهِ صَاحِبُهُ، وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ الْقَبِيلَةِ فَيَكُونُ بَيْنَهُمْ رِمِّيَّا بِالْحِجَارَةِ فِي عِمِّيَّا فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ ".حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”شبہ العمد میں دیت مغلظہ ہے، اس میں قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا، یہ اس طرح ہوتا ہے کہ شیطان قبیلے کے لوگوں کے درمیان فساد ڈال دیتا ہے، پھر ان کے درمیان اندھا دھند پتھر بازی ہو جاتی ہے، بغیر کسی کینے کے اور بغیر ہتھیار اٹھائے۔“