السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: شبه العمد باب: شبہ عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے کے مشابہ) کا بیان۔
حدیث نمبر: 16001
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ فِي رِمِّيَّا تَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحِجَارَةٍ أَوْ جَلْدٍ بِالسَّوْطِ أَوْ ضَرْبٍ بِعَصًا فَهُوَ خَطَأٌ، عَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ، وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدُ يَدِهِ، وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَغَضَبُهُ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ " هَذَا مُرْسَلٌ.حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو غلطی سے قتل ہو جائے یا تیر لگ جائے، کسی آڑ کی وجہ سے پتا نہ چلا ہو، یا کوڑے سے مارتے ہوئے یا عصا سے مارتے ہوئے قتل ہو جائے تو یہ قتلِ خطا ہے اور اس میں دیت ہے، اور جو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس میں قصاص ہے، اور جو حدود کے درمیان حائل ہو گیا، اس پر اللہ کی لعنت ہو اور اس کا کوئی عمل، چاہے فرضی ہو یا نفلی، قبول نہیں ہو گا۔“