حدیث نمبر: 15997
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ السُّكَّرِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، يَقُولُ: حَضَرْتُ مَجْلِسَ الْمُزَنِيِّ يَوْمًا، وَسَأَلَهُ سَائِلٌ مِنَ الْعِرَاقِيِّينَ عَنْ شِبْهِ الْعَمْدِ، فَقَالَ السَّائِلُ: إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَصَفَ الْقَتْلَ فِي كِتَابِهِ صِفَتَيْنِ عَمْدًا وَخَطَأً، فَلِمَ قُلْتُمْ: إِنَّهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ؟ وَلِمَ قُلْتُمْ: شِبْهُ الْعَمْدِ؟ يَعْنِي فَاحْتَجَّ الْمُزَنِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ لَهُ مُنَاظِرُهُ: أَتَحْتَجُّ بِعَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ؟ فَسَكَتَ الْمُزَنِيُّ، فَقُلْتُ لِمُنَاظِرِهِ: قَدْ رَوَى هَذَا الْخَبَرَ غَيْرُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ: وَمَنْ رَوَاهُ غَيْرُ عَلِيٍّ؟ قُلْتُ: رَوَاهُ أَيُّوبُ السِّخْتِيَانِيُّ، وَخَالِدٌ الْحَذَّاءُ قَالَ لِي: فَمَنْ عُقْبَةُ بْنُ أَوْسٍ؟ فَقُلْتُ: عُقْبَةُ بْنُ أَوْسٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، وَقَدْ رَوَاهُ عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ مَعَ جَلَالَتِهِ فَقَالَ لِلْمُزَنِيِّ: أَنْتَ تُنَاظِرُ أَوْ هَذَا؟ فَقَالَ: إِذَا جَاءَ الْحَدِيثُ فَهُوَ يُنَاظِرُ؛ لِأَنَّهُ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنِّي، ثُمَّ أَتَكَلَّمُ أَنَا قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا حَدِيثُ أَيُّوبَ.
حافظ ثناء اللہ

محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں مزنی رحمہ اللہ کی مجلس میں حاضر ہوا تو ایک عراقی سائل نے قتلِ خطا (شبہ العمد) کے بارے میں سوال کیا۔ سائل نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں قتل کو دو قسموں میں بیان کیا، ایک قتلِ عمد اور دوسرا قتلِ خطا، تو تم یہ کیوں کہتے ہو کہ اس کی تین قسمیں ہیں اور تم شبہ العمد کے نام سے تیسری قسم کیوں بناتے ہو؟ یعنی امام مزنی رحمہ اللہ نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی تھی تو مزنی رحمہ اللہ کا جو مناظر تھا وہ کہنے لگا کہ کیا تو علی بن زید بن جدعان سے دلیل پکڑتا ہے؟ امام مزنی رحمہ اللہ خاموش ہو گئے تو میں نے ان کے مد مقابل کو کہا کہ علی بن زید کے علاوہ اس حدیث (شبہ العمد والی) کو اور بھی روایت کرنے والے ہیں، تو وہ کہنے لگا: کون ہیں؟ میں نے کہا: ایوب سختیانی اور خالد الحذاء۔ تو وہ مجھے کہنے لگا: عقبہ بن اوس کون ہے؟ میں نے کہا: عقبہ بن اوس اہل بصرہ میں سے ایک شخص ہے جس سے ابن سیرین رحمہ اللہ اپنی جلالتِ علمی کے باوجود روایت کرتے ہیں۔ وہ شخص لا جواب ہو گیا اور امام مزنی رحمہ اللہ سے کہنے لگا کہ آپ مجھ سے مناظرہ کر رہے ہیں یا یہ؟ تو امام مزنی رحمہ اللہ نے جواب دیا کہ جب حدیث آ جائے تو وہی مناظر ہے اور یہ چونکہ حدیث کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے اسی لیے مناظر بھی یہی ہے۔ پھر میں نے ہی اس سے باقی گفتگو کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15997
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»