حدیث نمبر: 15922
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو قُدَامَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: ⦗٥٨⦘ لَقِيتُ زُفَرَ فَقُلْتُ لَهُ: صِرْتُمْ حَدِيثًا فِي النَّاسِ وَضُحْكَةً. قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: تَقُولُونَ فِي الْأَشْيَاءِ كُلِّهَا: ادْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ، وَجِئْتُمْ إِلَى أَعْظَمِ الْحُدُودِ، فَقُلْتُمْ: تُقَامُ بِالشُّبُهَاتِ، قَالَ: وَمَا ذَلِكَ؟ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ "، فَقُلْتُمْ: يُقْتَلُ بِهِ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ السَّاعَةَ أَنِّي قَدْ رَجَعْتُ عَنْهُ..
حافظ ثناء اللہ

عبدالواحد بن زیاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے امام زفر رحمہ اللہ سے کہا: تم نے حدیث کو مذاق بنا لیا ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیسے؟ میں نے کہا: تم یہ کہتے ہو کہ شک ہو تو حد کو ساقط کر دو اور خود بہت بڑی حد شبہ میں قائم کرتے ہو۔ انہوں نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: آپ ﷺ کا تو فرمان ہے: ”مومن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا“ اور تم کہتے ہو کہ قتل کیا جائے گا۔ تو امام زفر رحمہ اللہ کہنے لگے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس سے رجوع کر لیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنايات / حدیث: 15922
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ لعبدالواحد بن زياد»