السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: بيان ضعف الخبر الذي روي في قتل المؤمن بالكافر، وما جاء عن الصحابة في ذلك باب: کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کے متعلق مروی روایت کے ضعف، اور اس بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی آثار کا بیان۔
حدیث نمبر: 15919
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الذِّمَّةِ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ⦗٥٧⦘ إِنَّا عَاهَدْنَاكَ وَبَايَعْنَاكَ عَلَى كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ خُتِرَ بِرَجُلٍ مِنَّا فَقُتِلَ، فَقَالَ: " أَنَا أَحَقُّ مَنْ أَوْفَى بِذِمَّتِهِ "، فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمٰن بن بیلمانی کہتے ہیں کہ ذمیوں میں سے ایک شخص آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ سے ہمارا یہ یہ معاہدہ ہوا تھا۔ آپ کے ایک شخص نے ہمارا ایک آدمی قتل کردیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اپنے ذمہ کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہوں“، تو آپ ﷺ نے اس مسلمان کو بھی قتل کروا دیا۔