السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: بيان ضعف الخبر الذي روي في قتل المؤمن بالكافر، وما جاء عن الصحابة في ذلك باب: کافر کے بدلے مومن کو قتل کرنے کے متعلق مروی روایت کے ضعف، اور اس بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی آثار کا بیان۔
حدیث نمبر: 15917
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّهَاوِيُّ، أَخْبَرَنِي جَدِّي سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّهَاوِيُّ، أَنَّ عَمَّارَ بْنَ مَطَرٍ حَدَّثَهُمْ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَتَلَ مُسْلِمًا بِمُعَاهِدٍ وَقَالَ: " أَنَا أَكْرَمُ مَنْ وَفَى بِذِمَّتِهِ " هَذَا خَطَأٌ مِنْ وَجْهَيْنِ: أَحَدُهُمَا وَصَلَهُ بِذِكْرِ ابْنِ عُمَرَ فِيهِ، وَإِنَّمَا هُوَ عَنِ ابْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا. وَالْآخَرُ رِوَايَتُهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَبِيعَةَ، وَإِنَّمَا يَرْوِيهِ إِبْرَاهِيمُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، وَالْحَمْلُ فِيهِ عَلَى عَمَّارِ بْنِ مَطَرٍ الرَّهَاوِيِّ، فَقَدْ كَانَ يُقَلِّبُ الْأَسَانِيدَ وَيَسْرِقُ الْأَحَادِيثَ حَتَّى كَثُرَ ذَلِكَ فِي رِوَايَاتِهِ وَسَقَطَ عَنْ حَدِّ الِاحْتِجَاجِ بِهِ.حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک ذمی کے بدلے نبی ﷺ نے ایک مسلمان کو قتل کیا اور فرمایا: ”میں زیادہ اپنے ذمہ کو پورا کرنے والا ہوں۔“
اس روایت میں دو علتیں ہیں: (۱) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موصول غلط ہے بلکہ یہ بیلمانی کی نبی ﷺ سے مرسل روایت ہے۔ (۲) ابراہیم اسے ابن منکدر سے روایت کرتے ہیں اور پھر اسے عمار بن مطر رہادی پر محمول کیا، یہ سندوں میں قلب اور احادیث میں چوری کرتا تھا اور یہ حدِ احتجاج سے ساقط راوی ہے۔