السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: إيجاب القصاص في العمد باب: قتلِ عمد (جان بوجھ کر قتل کرنے) میں قصاص واجب ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، {فَمَنِ اعْتَدَى} [البقرة: ١٧٨] فَقَتَلَ بَعْدَ أَخْذِهِ الدِّيَةَ {فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: ١٧٨]، {ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ} [البقرة: ١٧٨] يَقُولُ: حِينَ أُطْعِمْتُمُ الدِّيَةَ، وَلَمْ تَحِلَّ لِأَهْلِ التَّوْرَاةِ، إِنَّمَا هُوَ قِصَاصٌ أَوْ عَفْوٌ، وَكَانَ لِأَهْلِ الْإِنْجِيلِ إِنَّمَا هُوَ عَفْوٌ لَيْسَ غَيْرُهُ، فَجُعِلَ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَوَدُ وَالدِّيَةُ وَالْعَفْوُ، {وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ} [البقرة: ١٧٩] يَقُولُ: جَعَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْقِصَاصَ حَيَاةً لَكُمْ مِنْ رَجُلٍ يُرِيدُ أَنْ يَقْتُلَ فَيَمْنَعَهُ مِنْهُ مَخَافَةَ أَنْ يُقْتَلَ.ربیع بن انس رحمہ اللہ، ابو العالیہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ﴿فَمَنِ اعْتَدَىٰ﴾ [سورة البقرة: 178] یعنی دیت لینے کے بعد قتل کرنا۔ ﴿فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ﴾ [سورة البقرة: 178] اس کا معنیٰ ہے کہ یہودیوں کے لیے قتل کی صورت میں دیت نہیں تھی یا عفو تھا یا قصاص اور اہل انجیل (عیسائیوں) کے لیے صرف عفو تھا جبکہ اس امت کو اللہ نے تینوں سہولتیں دی ہیں۔ چاہو قصاصاً قتل کرو، چاہو دیت لے لو، چاہو معاف کر دو۔ ﴿وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ﴾ [سورة البقرة: 179] ”تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے“ یعنی اللہ نے قصاص کو زندگی بنایا، وہ ایسے کہ اگر کوئی قصاصاً قتل کر دیا جائے تو دوسرے اس سے عبرت پکڑیں گے۔