السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: لا يشير بالسلاح إلى من لا يستحق القتل، ومن مر في مسجد أو سوق بنبل أمسك بنصالها باب: جو قتل کا مستحق نہ ہو اس کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کیا جائے، اور جو شخص مسجد یا بازار سے تیر لے کر گزرے تو وہ اس کی نوکوں کو پکڑ کر رکھے۔
حدیث نمبر: 15875
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيٌّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ سَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: مَرَّ رَجُلٌ بِسِهَامٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمْسِكْ بِنِصَالِهَا "؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
سفیان کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن دینار سے پوچھا: اے ابو محمد! کیا آپ نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو فرماتے سنا کہ ایک شخص مسجد سے اسلحہ لے کر گزرا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی نوک کو چھپا لو“؟ انہوں نے کہا: جی ہاں!