السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: قتل الولدان باب: بچوں کو قتل کرنے کا بیان۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ} [الأنعام: 151] وَقَالَ: {وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأِيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ} وَقَالَ: {قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عَلِمٍ} [الأنعام: 140].اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ﴾ ”اور مفلسی کی وجہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، ہم ہی تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی۔“ [سورة الأنعام: 151]
اور فرمایا: ﴿وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ بِأِيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ﴾ ”اور جب زندہ دفن کی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی؟“ [سورة التكوير: 8-9]
اور فرمایا: ﴿قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عَلِمٍ﴾ ”یقیناً وہ لوگ خسارے میں پڑ گئے جنہوں نے اپنی اولاد کو بے وقوفی سے، بغیر علم کے قتل کیا۔“ [سورة الأنعام: 140]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ عَمْرٍو الْبَجَلِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٣⦘ قُلْتُ: أِيُّ الْكَبَائِرِ أَكْبَرُ؟ قَالَ: " أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: " أَنْ تُقْتَلَ وَلَدِكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ ".ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ کبیرہ گناہ کون سے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کے ساتھ شرک کرو، حالانکہ وہ تمہارا خالق ہے۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”اپنی اولاد کو رزق کے خوف سے قتل کرنا۔“