حدیث نمبر: 15832
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْبُشَيْرِيُّ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِذَا سُئِلُوا قَالُوا: لَا تَوْبَةَ لَهُ. وَإِذَا ابْتُلِيَ رَجُلٌ قَالُوا لَهُ: تُبْ ".
حافظ ثناء اللہ

سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اہل علم سے اس بارے میں سوال پوچھو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اس کی کوئی توبہ نہیں، اور جب کسی شخص سے قتل ہو جاتا ہے تو پھر اسے کہتے ہیں کہ توبہ کر لے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النفقات / حدیث: 15832
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»