السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
جماع أبواب تحريم القتل ومن يجب عليه القصاص ومن لا قصاص عليه -- باب: أصل تحريم القتل في القرآن باب: قتل کی حرمت، اور جن پر قصاص واجب ہوتا ہے اور جن پر نہیں ہوتا، ان کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: قرآن مجید میں قتل کی حرمت کی اصل کا بیان۔
حدیث نمبر: 15832
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْبُشَيْرِيُّ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِذَا سُئِلُوا قَالُوا: لَا تَوْبَةَ لَهُ. وَإِذَا ابْتُلِيَ رَجُلٌ قَالُوا لَهُ: تُبْ ".حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اہل علم سے اس بارے میں سوال پوچھو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اس کی کوئی توبہ نہیں، اور جب کسی شخص سے قتل ہو جاتا ہے تو پھر اسے کہتے ہیں کہ توبہ کر لے۔