السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
جماع أبواب تحريم القتل ومن يجب عليه القصاص ومن لا قصاص عليه -- باب: أصل تحريم القتل في القرآن باب: قتل کی حرمت، اور جن پر قصاص واجب ہوتا ہے اور جن پر نہیں ہوتا، ان کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: قرآن مجید میں قتل کی حرمت کی اصل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْعَدْلُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، أَوْ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ: سَلِ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مَا أَمْرُهُمَا؟ عَنِ الْآيَةِ الَّتِي فِي سُورَةِ الْفُرْقَانِ {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ} [الفرقان: ٦٨] إِلَى قَوْلِهِ {وَلَا يَزْنُونَ} [الفرقان: ٦٨]، وَعَنِ الْآيَةِ الَّتِي فِي النِّسَاءِ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا} [النساء: ٩٣] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ: فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: لَمَّا أُنْزِلَتِ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ قَالَ: مُشْرِكُوا أَهْلِ مَكَّةَ: قَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ، وَدَعَوْنَا مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ، وَقَدْ أَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ. قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى {إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ} [الفرقان: ٧٠] فَهَذِهِ لِأُولَئِكَ، قَالَ: وَأَمَّا الَّتِي فِي النِّسَاءِ {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا} [النساء: ٩٣] قَرَأَ إِلَى قَوْلِهِ {عَظِيمًا} [النساء: ٢٧] قَالَ: الرَّجُلُ إِذَا عَرَفَ الْإِسْلَامَ وَعَلِمَ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ، وَلَا تَوْبَةَ لَهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ: إِلَّا مِنْ نَدِمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ جَرِيرٍ.سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ان دو آیات کے متعلق پوچھوں کہ ان کا کیا مطلب ہے۔ پہلی آیت سورة الفرقان کی: ﴿وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ﴾ «إِلَىٰ قَوْلِهِ» ”اللہ کے اس فرمان تک“ ﴿وَلَا یَزْنُوْنَ﴾ [سورة الفرقان: 68] اور دوسری آیت سورة النساء کی 93 نمبر آیت ﴿وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا﴾ «إِلَىٰ آخِرِ الْقَوْلِ» ”آخر تک“ [سورة النساء: 93] تو میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: جب سورة الفرقان والی آیت نازل ہوئی تو مکہ کے مشرکین کہنے لگے: ہم نے ناحق قتل بھی کیے، اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی پکارے اور برے کام بھی کیے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: ﴿اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ﴾ «إِلَىٰ قَوْلِهِ» ”اللہ کے اس فرمان تک“ ﴿حَسَنَاتٍ﴾ [سورة الفرقان: 70] تو یہ ان لوگوں کے لیے ہے، اور سورة النساء والی آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو شرائع اسلام کو جانتا ہو پھر وہ قتل کرتا ہے تو اس کی کوئی توبہ قبول نہیں۔ میں نے یہ بات مجاہد رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا: جو اپنے کیے پر نادم ہو وہ اس میں شامل نہیں۔