السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
جماع أبواب تحريم القتل ومن يجب عليه القصاص ومن لا قصاص عليه -- باب: أصل تحريم القتل في القرآن باب: قتل کی حرمت، اور جن پر قصاص واجب ہوتا ہے اور جن پر نہیں ہوتا، ان کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: قرآن مجید میں قتل کی حرمت کی اصل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الْأَبِيوَرْدِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ تَقْتُلُ نَفْسًا ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا؛ لِأَنَّهُ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلًا ". لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُعَاوِيَةَ: " لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا؛ لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قَالَ اللهُ تَعَالَى: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} [النساء: ٩٣].عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی بھی دنیا میں ظلم کر کے قتل کیا جاتا ہے تو اس کے قتل کے گناہ کا کچھ حصہ آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے کو بھی جاتا ہے کیونکہ سب سے پہلے قتل کی ابتدا اس نے کی تھی۔“
اور ابو معاویہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”دنیا میں کوئی بھی ظلم کر کے قتل نہیں کیا جاتا مگر اس کا گناہ آدم کے بیٹے پر ہوتا ہے کیونکہ قتل کی ابتدا اس نے ہی کی تھی۔“
اور بخاری نے حمیدی سے اور مسلم نے ابن ابی عمر عن سفیان بیان کی ہے اور اللہ کا یہ فرمان بھی ساتھ بیان کیا ہے: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا... وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾ [سورة النساء: 93]۔