السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: نفقة الدواب باب: جانوروں کے نفقہ (چارے وغیرہ) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، فَأَسَرَّ إِلِيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ أَحَبَّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ، أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ يَعْنِي حَائِطَ قَالَ: فَدَخَلَ حَائِطًا لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَإِذَا فِيهِ جَمَلٌ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ سَرَاتَهُ إِلَى سَنَامِهِ وَذِفْرَيْهِ، فَسَكَنَ، قَالَ: " مَنْ رَبُّ هَذَا الْجَمَلِ، لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ ". قَالَ: فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ: " أَلَا تَتَّقِي اللهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَ اللهُ إِيَّاهَا، فَإِنَّهَا تَشْكُو إِلِيَّ أَنَّكَ تُجِيعُهَا، وَتُدْئِبُهَا ". أَخْرَجَ مُسْلِمٌ أَوَّلَ الْحَدِيثِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ.سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا تو مجھ سے کچھ باتیں کیں جو میں بتاؤں گا نہیں۔ آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے کوئی بلند آڑ یا پھر کھجور کے درختوں کا جھمگٹا پسند فرماتے تھے۔ آپ ﷺ اپنی حاجت کے لیے ایک انصاری کے باغ میں داخل ہو گئے تو دیکھا وہاں ایک اونٹ بیٹھا ہے، آپ ﷺ کو دیکھ کر اس اونٹ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ ﷺ نے اس کی کوہان اور گردن پر ہاتھ پھیرا اور پوچھا: ”اس کا مالک کون ہے؟“ تو وہ انصاری آیا اور کہا: ”میرا ہے یا رسول اللہ ﷺ!“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو اس جانور کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتا جس کا اللہ نے تجھے مالک بنایا ہے؟ اس کا خیال رکھا کر، اس اونٹ نے مجھے شکایت کی ہے کہ تو اسے بہت تکلیف دیتا ہے اور تھکا دیتا ہے۔“