حدیث نمبر: 15770
قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَحَدَّثَنِي هَانِئُ بْنُ هَانِئٍ، وَهُبَيْرَةُ بْنُ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَاتَّبَعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمُّ، يَا عَمُّ. فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ: دُونَكِ ابْنَةَ عَمِّكِ. فَحَمَلَتْهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا أَخَذْتُهَا، وَبِنْتُ عَمِّي. وَقَالَ جَعْفَرٌ: بِنْتُ عَمِّي، وَخَالَتُهَا عِنْدِي. وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي. فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ: " الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ " وَقَالَ لِزَيْدٍ: " أَنْتَ أَخُونَا، وَمَوْلَانَا " فَحَجَلَ، وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: " أَنْتَ أَشْبَهُهُمْ بِي خَلْقًا وَخُلُقًا " فَحَجَلَ وَرَاءَ ⦗١٠⦘ حَجْلِ زَيْدٍ ثُمَّ قَالَ لِي: " أَنْتَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْكَ " فَحَجَلْتُ وَرَاءَ حَجْلِ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَقُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَتَزَوَّجُ بِنْتَ حَمْزَةَ؟ قَالَ: " إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ " وَيُحْتَمَلُ أَنْ تَكُونَ رِوَايَةُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ فِي قِصَّةِ ابْنَةِ حَمْزَةَ مُخْتَصِرَةً كَمَا رُوِّينَا، ثُمَّ رَوَاهَا عَنْهُمَا عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ كَمَا رُوِّينَا، فَقَصَّةُ الْحَجْلِ فِي رِوَايَتِهِمَا دُونَ رِوَايَةِ الْبَرَاءِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا هَذِهِ الْقِصَّةُ أَيْضًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ”چچا! چچا!“ کی صدائیں لگاتی ہوئی پیچھے آگئی، میں نے اسے پکڑا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیا تو سیدنا علی، سیدنا زید بن حارثہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم کے درمیان اختلاف ہو گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے اسے پکڑا ہے اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے بھی چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے، سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا: ”خالہ ماں کے قائم مقام ہوتی ہے“ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”تو ہمارا بھائی اور مولیٰ ہے“ تو وہ پاؤں کے بل پیچھے ہٹ گئے، پھر سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”تو میرے ساتھ تخلیق اور اخلاق میں سب سے زیادہ مشابہ ہے“ تو وہ بھی ایک پاؤں کے بل زید کے پیچھے ہو گئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہے“ تو وہ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہو گئے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے شادی کر لیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے“۔ ممکن ہے جو ابواسحاق کی براء سے روایت ہے اس میں بنتِ حمزہ کا واقعہ مختصر ہو اور پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مکمل بیان کیا گیا ہو اور پاؤں کے بل پیچھے ہٹنے کا قصہ اسی روایت میں ہے براء کی روایت میں نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النفقات / حدیث: 15770
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»