حدیث نمبر: 15768
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي ذِي الْقِعْدَةِ، فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَلَمَّا كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ، فَقَالُوا: لَا نُقِرُّ بِهَذَا، وَلَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللهِ مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: " أَنَا رَسُولُ اللهِ، وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، يَا عَلِيُّ، امْحُ " رَسُولُ اللهِ " قَالَ: وَاللهِ لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا. فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ، وَلَيْسَ يُحْسِنُ يَكْتُبُ مَكَانَ " رَسُولُ اللهِ " فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ: أَنْ لَا يُدْخِلَ مَكَّةَ السِّلَاحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ، وَأَنْ لَا يُخْرِجَ مِنْ أَهْلِهَا أَحَدًا أَرَادَ أَنْ يَتَّبِعَهُ، وَأَنْ لَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِهِ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا. فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ، أَتَوْا عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالُوا: قُلْ لِصَاحِبِكَ فَلْيَخْرُجْ عَنَّا، فَقَدْ مَضَى الْأَجَلُ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَتْبَعُهُمْ ابْنَةُ حَمْزَةَ، فَنَادَتْ: يَا عَمُّ، يَا عَمُّ. فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ: دُونَكِ. فَحَمَلَتْهَا، فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، وَجَعْفَرٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ. فَقَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا، وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي. قَالَ جَعْفَرٌ: ابْنَةُ عَمِّي، وَخَالَتُهَا تَحْتِي. وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي. فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا، وَقَالَ: " الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ " وَقَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَنْتَ مِنِّي، ⦗٩⦘ وَأَنَا مِنْكَ " وَقَالَ لِجَعْفَرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَشْبَهْتَ خَلْقِي، وَخُلُقِي " وَقَالَ لِزَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَنْتَ أَخُونَا، وَمَوْلَانَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، هَكَذَا رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ مُدْرَجًا. وَرَوَى إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ إِسْرَائِيلَ قِصَّةَ ابْنَةِ حَمْزَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، وَهُبَيْرَةَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَذَلِكَ رَوَاهَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى مَرَّةً أُخْرَى مُنْفَرِدَةً، وَرَوَاهُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذی القعدہ میں عمرہ کا ارادہ کیا۔ اہل مکہ نے انکار کر دیا کہ جب تک کوئی معاہدہ نہ ہو جائے مسلمان مکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ معاہدہ یہ ہو گا کہ مسلمان تین دن سے زیادہ نہیں رکیں گے۔ جب معاہدہ لکھا گیا تو کاتب نے لکھا: یہ معاہدہ محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے طے کردہ ہے۔ مشرکین کہنے لگے: اگر ہم آپ کو رسول اللہ ﷺ مان لیں تو جھگڑا کس بات کا؟ آپ رسول اللہ نہیں بلکہ محمد بن عبداللہ ہیں۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں رسول اللہ بھی ہوں اور ابن عبداللہ بھی ہوں۔“ اور فرمایا: ”اے علی! رسول اللہ کا لفظ مٹا دے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں تو اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔ آپ ﷺ نے خط (تحریر) پکڑا اور اس پر یہ لکھ دیا کہ یہ محمد بن عبداللہ کی طرف سے عہد نامہ ہے کہ وہ مکہ میں اسلحہ لے کر داخل نہیں ہوں گے، صرف تلوار ہو گی وہ بھی میان میں، اور اہل مکہ سے کوئی مسلمانوں کے ساتھ نہیں جائے گا اور اگر کوئی مسلمان اہل مکہ سے ملنا چاہتا ہے مسلمانوں کو چھوڑ کر تو اسے روکا نہیں جائے گا۔ جب مسلمان مکہ میں داخل ہو گئے اور مدت پوری ہو گئی تو اہل مکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے صاحب سے کہیں کہ اب یہاں سے چلے جائیں، تو رسول اللہ ﷺ مکہ سے نکل پڑے تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی آپ کے پیچھے چل پڑی اور چیخنے لگی: اے چچا جان! اے چچا جان! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے پکڑ لیا اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سپرد کر دیا، تو سیدنا علی، سیدنا زید اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہم کا اختلاف ہو گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اسے میں نے پکڑا تھا اور یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے بھی چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرے بھائی کی بچی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے خالہ کے حق میں فیصلہ فرمایا اور فرمایا: ”خالہ ماں کے قائم مقام ہوتی ہے۔“ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لیے فرمایا: ”تو تخلیق اور اخلاق کے لحاظ سے مجھ سے مشابہ ہے۔“ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ کو فرمایا: ”اے زید! تو ہمارا بھائی اور مولیٰ ہے۔“
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں عبید اللہ بن موسیٰ سے اسے بیان کیا ہے۔
اسی طرح عبید اللہ بن موسیٰ نے اسرائیل سے اسے مدرجاً روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النفقات / حدیث: 15768
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»