السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: {لينفق ذو سعة من سعته ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله} باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”خوشحال شخص اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرے اور جس کا رزق تنگ کر دیا گیا ہو وہ اس میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے“ کا بیان۔
وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي قِصَّةِ الْمُوَاقِعِ قَالَ فِيهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " قَالَ: مَا أَجِدُ قَالَ: فَأَتَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ خَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا قَالَ: " خُذْهُ فَتَصَدَّقْ بِهِ "، أَخْبَرَنَاه أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْكَاتِبُ، نا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، نا هِقْلٌ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ فَذَكَرَهُ هَكَذَا رَوَاهُ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ مُدْرَجًا فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدٍ وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فَجَعَلَ تَقْدِيرَ الْعَرَقِ فِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، وَذَكَرْنَاهُ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي نَفَقَةِ الْمُوسِرِ إِنَّهَا مُدَّانِ قَالَ: وَإِنَّمَا جَعَلْتُ أَكْثَرَ مَا فَرَضْتُ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ لِأَنَّ أَكْثَرَ مَا جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي فِدْيَةِ الْكَفَّارَةِ لِلْأَذَى مُدَّيْنِ لِكُلِّ مِسْكِينٍ.ابوہریرہ رضی اللہ عنہ واقع ہونے والے کے قصے کے بارے میں نبی ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا۔“ عرض کیا: میں نہیں پاتا۔ پھر رسول اللہ ﷺ کو ایک ٹوکری دی گئی۔ اس میں پندرہ صاع (کھجور) تھی۔ فرمایا: ”اس کو لے لو اور صدقہ کر دو۔“ ہمیں اس کی ابو عمرو ادیب نے خبر دی، انہیں ابوبکر اسماعیلی نے احمد بن محمد بن منصور کاتب سے خبر دی، وہ کہتے ہیں: ہمیں حکم بن موسیٰ نے حدیث بیان کی، ہمیں ہقل نے اوزاعی سے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: مجھے زہری نے حدیث بیان کی، پس اس کو ذکر کیا۔
اسی طرح اسے اوزاعی سے زہری کی حمید سے (مروی) حدیث میں مدرج (یعنی راوی کا داخل کردہ اضافہ) کر کے روایت کیا گیا ہے۔ ابن مبارک رحمہ اللہ نے اس کو اوزاعی سے روایت کیا اور ٹوکری کی مقدار کا اندازہ عمرو بن شعیب رحمہ اللہ کی روایت میں رکھا ہے اور ہم نے اس کو دوسری جگہ ذکر کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آسانی والے کا نفقہ دو مد ہے اور میں نے زیادہ سے زیادہ جو مقرر کیا وہ دو دو مد اس لیے رکھا ہے کہ نبی ﷺ نے تکلیف (سر کی بیماری) کے کفارہ کے فدیہ میں زیادہ سے زیادہ ہر مسکین کے لیے دو مد مقرر کیے ہیں۔