السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: استبراء من ملك الأمة باب: جو شخص کسی لونڈی کا مالک بنے اس کے لیے استبراءِ رحم کے احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 15592
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ الْمَشَّاطُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا مَاتَ سَيِّدُهَا وَالْأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ أَوْ وُهِبَتْ حَيْضَةٌ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: تُسْتَبْرَأُ الْأَمَةُ بِحَيْضَةٍ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ وَعَطَاءٍ وَابْنِ سِيرِينَ وَعِكْرِمَةَ أَنَّهُمْ قَالُوا: يَسْتَبْرِئُهَا وَإِنْ كَانَتْ بِكْرًا.حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ام ولد کی عدت جب اس کا سردار فوت ہو جائے یا جب لونڈی کو آزاد کر دیا جائے یا اس کو ہبہ کر دیا جائے، اسے کسی کو تحفہ میں دیا جائے، اس کی عدت ایک حیض ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمیں حدیث بیان کی گئی کہ لونڈی ایک حیض کے ساتھ استبراء رحم کرے۔
حسن، عطاء، ابن سیرین اور عکرمہ رحمہم اللہ سے ہمیں حدیث بیان کی گئی، وہ سب کہتے ہیں کہ وہ استبراء رحم کرے اگرچہ کنواری ہو۔