حدیث نمبر: 15590
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا عَلَى بَابِ فُسْطَاطٍ أَوْ قَالَ: خِبَاءٍ فَقَالَ: " لَعَلَّ صَاحِبَ هَذِهِ يُلِمُّ بِهَا، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ قَبْرَهُ، كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ، وَكَيْفَ يَسْتَرِقُّهُ وَهُوَ لَا يَحِلُّ لَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ عَنْ أَبِي دَاوُدَ، وَالْمُجِحُّ الْحَامِلُ الْمُقْرِبُ وَهَذَا لِأَنَّهُ قَدْ يَرَى أَنَّ بِهَا حَمْلًا وَلَيْسَ بِحَمْلٍ فَيَأْتِيهَا فَتَحْمِلُ مِنْهُ فَيَرَاهُ مَمْلُوكًا وَلَيْسَ بِمَمْلُوكٍ وَإِنَّمَا يُرَادُ مِنْهُ أَنَّهُ نَهَى عَنْ وَطْءِ السَّبَايَا قَبْلَ الِاسْتِبْرَاءِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک عورت کو بابِ بسطاط یا بابِ خباء پر حالتِ حمل میں دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید اس کا صاحب (مالک) اس کے ساتھ جماع (صحبت) کرتا ہے؟ میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں جو اس کے ساتھ اس کی قبر میں داخل ہو، وہ کیسے اسے اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے؟ اور وہ کیسے اس کو غلام بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں؟“ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں محمد بن بشار سے، انہوں نے ابوداؤد سے روایت کیا ہے، اور «الْمُجِحُّ» کا معنیٰ حاملہ ہونا یا بوجھ اٹھانا ہے، اور یہ اس لیے ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ وہ حاملہ ہے اور وہ حاملہ نہیں ہوتی (یعنی اس وقت تک اس کے نطفے سے حاملہ نہیں ہوئی)، پھر وہ اس کے پاس آتا ہے (یعنی صحبت کرتا ہے) تو وہ اس سے حاملہ ہوجاتی ہے، وہ اسے غلام سمجھتا ہے حالانکہ وہ غلام نہیں ہوتا، اور اس سے مراد یہ لیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے استبراءِ رحم سے پہلے قیدی عورتوں سے وطی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اس کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15590
درجۂ حدیث محدثین: صحيح 1441
تخریج حدیث «صحيح 1441»