السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: استبراء من ملك الأمة باب: جو شخص کسی لونڈی کا مالک بنے اس کے لیے استبراءِ رحم کے احکام کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، ح وَأنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا النُّفَيْلُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَامَ فِينَا خَطِيبًا قَالَ: أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ لَكُمْ إِلَّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ: قَالَ " لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى ⦗٧٣٨⦘ وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْيِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يَقْسِمَ " لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ سَلَمَةَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ بُكَيْرٍ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ أَبِي رُوَيْفِعٍ الْأَنْصَارِيِّ فَذَكَرَهُ وَقَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ وَزَادَ " أَنْ يُصِيبَ امْرَأَةً مِنَ السَّبْيِ ثَيِّبَةً " وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ.رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان (رسول اللہ ﷺ) خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، پھر انہوں نے کہا: میں تمہارے لیے وہ بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ ﷺ کو یومِ حنین میں فرماتے ہوئے سنا کہ: ”کسی شخص کے لیے جائز نہیں، جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو کہ وہ غنیمت کے مال کو تقسیم کیے جانے سے پہلے فروخت کرے۔“ یہ ابوسلمہ کی حدیث کے الفاظ ہیں اور ابن بکیر کی روایت میں ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نے ابو رویفع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ کیا۔ انہوں نے اس کا ذکر کیا اور فرمایا: ”خیبر کے دن“، اور یہ اضافہ کیا کہ ”وہ قیدی عورتوں میں سے کسی ثیبہ کے پاس آئے۔“
اور صحیح محمد بن سلمہ کی روایت ہے۔