السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العدد— عدت کا بیان
باب: المعتدة تضطر إلى الكحل باب: عدت گزارنے والی عورت کا مجبوری کے تحت سرمہ استعمال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15536
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لِامْرَأَةٍ حَادٍّ عَلَى زَوْجِهَا اشْتَكَتْ عَيْنَيْهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ مِنْهَا: " اكْتَحِلِي بِكُحْلِ الْجَلَاءِ بِاللَّيْلِ وَامْسَحِيهِ بِالنَّهَارِ ".حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ نبی ﷺ کی بیوی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اپنے خاوند پر سوگ گزارنے والی ایک عورت کی آنکھیں خراب ہوئیں اور جب یہ بات آپ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم «كُحْلَ الْجِلَاءِ» ”جلاء سرمہ“ کے ساتھ رات کو سرمہ لگاؤ اور دن کے وقت اسے صاف کر دیا کرو۔“