حدیث نمبر: 15518
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَتْ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ أَبِي سُفْيَانَ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِصُفْرَةٍ فَمَسَحَتْ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا الْيَوْمَ الثَّالِثَ وَقَالَتْ: إِنْ كُنْتُ لَغَنِيَّةً عَنْ هَذَا لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُمَيْدِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ.حافظ ثناء اللہ
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کا اعلان کرنے والا آیا تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زردی منگوائی اور تیسرے دن اس کو اپنے رخساروں اور بازوؤں پر لگایا اور فرمایا: میں اس سے بے پروا ہوں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے نہ سنا ہوتا کہ ”کسی عورت کے لیے جائز نہیں ہے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، مگر اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
اس حدیث کو بخاری نے روایت کیا ہے۔