حدیث نمبر: 15516
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ حُمَيْدٍ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ قَالَ: قَالَتْ زَيْنَبُ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ أَبُو سُفْيَانَ فَدَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِطِيبٍ فِيهِ صُفْرَةُ خَلُوقٍ أَوْ غَيْرُهُ فَدَهَنَتْ مِنْهُ جَارِيَةً ثُمَّ مَسَّتْ بِعَارِضَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ: وَاللهِ مَالِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ غَيْرَ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ اتَّفَقَا: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ".
حافظ ثناء اللہ

زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ان تین احادیث کی خبر دی، زینب رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نبی ﷺ کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، جب (ان کے والد) ابوسفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے خوشبو منگوائی، اس میں زرد رنگ کی خوشبو تھی یا اس کے علاوہ کوئی اور خوشبو تھی، انہوں نے اس میں سے ایک لڑکی کو لگائی، پھر اپنے رخساروں پر ملی، پھر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی حاجت نہ تھی، سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ منبر پر فرما رہے تھے: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے، اور وہ اپنے خاوند پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
زینب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی، جب ان کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، انہوں نے خوشبو منگوائی اور اس خوشبو میں سے کچھ خوشبو لگائی، پھر انہوں نے کہا: مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہیں تھی، سوائے اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا، آپ ﷺ منبر پر فرما رہے تھے: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتی ہو، یہ جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ کرے، سوائے اپنے خاوند کے، وہ اس پر چار ماہ اور دس دن سوگ کرے۔“
زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں اور میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی، اس نے کہا: میری بیٹی کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئی ہیں، کیا وہ سرمہ لگا سکتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں (لگا سکتی)۔“ دو مرتبہ فرمایا یا تین مرتبہ، جتنی بار بھی اس نے سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں (لگا سکتی)۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو محض چار ماہ اور دس دن ہیں، جبکہ تم میں سے کوئی (عورت) زمانہ جاہلیت میں سال کے اختتام پر لید پھینکتی تھی۔“
حمید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے کہا: کیا وہ لید (پھینکنا) تھا سال کے اختتام پر؟ زینب رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جب کسی عورت کا خاوند فوت ہو جاتا تو وہ ایک خیمے میں داخل ہو جاتی، وہ بدترین لباس پہنتی، خوشبو نہ لگاتی یہاں تک کہ اس پر ایک سال گزر جاتا، پھر اس کے پاس کوئی گدھا یا بکری یا کوئی پرندہ لایا جاتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15516
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»