أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، نا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهَا، أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَرَمَدَتْ فَخَشَوْا عَلَى عَيْنِهَا فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنُوهُ فِي الْكُحْلِ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَكْتَحِلْ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي شَرِّ أَحْلَاسِهَا أَوْ فِي شَرِّ أَبْنِيَتِهَا فَإِذَا كَانَ حَوْلٌ فَمَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ فَلَا حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنی والدہ (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے نقل فرماتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا اور اس کی آنکھیں خراب ہو گئیں۔ انہوں نے اس کی آنکھوں کے بارے میں خوف محسوس کیا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اجازت چاہی کہ کیا وہ سرمہ ڈال سکتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ سرمہ نہ لگائے۔ تم میں سے کوئی (عورت جاہلیت میں) ایک برے کمبل اور بدترین گھر میں ٹھہری رہتی اور جب سال ہو جاتا تو ایک کتا گزرتا وہ اس کی لید اس کو مارتی، تو وہ سرمہ نہ لگائے جب تک اس پر چار ماہ اور دس دن نہ گزر جائیں۔“
اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے آدم سے روایت کیا ہے اور مسلم رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے نقل فرمایا ہے۔