حدیث نمبر: 15462
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، نا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ إِذَا مَاتَ وَتَرَكَ امْرَأَتَهُ اعْتَدَّتِ السَّنَةَ فِي بَيْتِهِ يُنْفِقُ عَلَيْهَا مِنْ مَالِهِ ثُمَّ أَنْزَلَ اللهُ بَعْدَ ذَلِكَ {وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا} [البقرة: ٢٣٤] فَهَذِهِ عِدَّةُ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِلَّا أَنْ تَكُونَ حَامِلًا فَعِدَّتُهَا أَنْ تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا، وَقَالَ فِي مِيرَاثِهَا {وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ} [النساء: ١٢] فَبَيَّنَ اللهُ مِيرَاثَ الْمَرْأَةِ وَتَرَكَ الْوَصِيَّةَ وَالنَّفَقَةَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اسی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: جب آدمی فوت ہوجاتا ہے اور اپنی بیوی کو چھوڑ جاتا ہے تو وہ ایک سال اسی کے گھر میں عدت گزارتی، وہ اس پر خرچ کرتے ہیں اسی کے مال سے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت: ﴿وَالَّذِيْنُ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا﴾ [سورة البقرة: 234] نازل فرمائی: ”اور وہ لوگ جو تم میں سے فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ چار ماہ اور دس دن انتظار کریں۔“
یہ عدت اس عورت کی مقرر ہوئی جس کا خاوند فوت ہوجائے، مگر حاملہ عورت کی عدت وہ ہے کہ جو اس کے پیٹ میں ہے اس کو جن دے۔
اس کی وراثت کے بارے میں فرمایا: ﴿وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ﴾ [سورة النساء: 12] ”اور ان کے لیے چوتھائی حصہ ہے، اگر تمہاری کوئی اولاد نہیں اور اگر تمہاری اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کی وراثت کو بیان کر دیا اور وصیت اور نفقے کو چھوڑ دیا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15462
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»