السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الشك في الطلاق ومن قال: لا تحرم إلا بيقين تحريم باب: طلاق میں شک پڑ جانے کا بیان اور اس شخص کا قول جس نے کہا کہ یقینی حرمت کے بغیر وہ (بیوی) حرام نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15143
أَخْبَرَنَا الشَّريفُ أَبُو الْفَتْحِ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، نا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدٍ ابْنِ الْحَنِيفَةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً أَوْ تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ تُزَوَّجُ فَيُطَلِّقُهَا زَوْجُهَا قَالَ: إِنْ ⦗٥٩٩⦘ رَجَعَتْ إِلَيْهِ بَعْدَمَا تَزَوَّجَتِ ائْتُنِفَ الطَّلَاقُ وَإِنْ تَزَوَّجَهَا فِي عِدَّتِهَا كَانَتْ عِنْدَهُ عَلَى مَا بَقِيَ " الرِّوَايَةُ الْأُولَى عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصَحُّ وَرِوَايَاتُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ الْحَنِيفَةِ ضَعِيفَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
محمد بن حنفیہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دے دیں، پھر اس نے کسی دوسرے خاوند سے نکاح کیا تو اس نے بھی طلاق دے دی، پھر وہ پہلے خاوند کے پاس چلی آئی تو نکاح کے بعد وہ نئے سرے سے طلاق کا آغاز کرے گا، اگر اس کی عدت میں شادی کر لی تو پھر اس کے پاس رہے گی باقی ماندہ طلاقوں پر۔