السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: لا يجوز طلاق الصبي حتى يبلغ، ولا طلاق المعتوه حتى يفيق باب: اس بیان میں کہ بچے کی طلاق بالغ ہونے تک اور پاگل کی طلاق ہوش میں آنے تک جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15110
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ " وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ وَالْحَسَنِ وَإِبْرَاهِيمَ أَنَّهُمْ قَالُوا: " لَا يَجُوزُ طَلَاقُ الصَّبِيِّ وَلَا عِتْقُهُ حَتَّى يَحْتَلِمَ "، وَرُوِّينَا عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَأَبِي قِلَابَةَ وَغَيْرِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يُجِيزُونَ طَلَاقَ الْمُبَرْسَمِ، ⦗٥٨٩⦘ وَعَنِ الشَّعْبِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ فِي الَّذِي يُطَلِّقُ وَيَعْتِقُ فِي الْمَنَامِ قَالَا: " لَيْسَ بِشَيْءٍ ".حافظ ثناء اللہ
عابس بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر طلاق جائز ہے سوائے بے وقوف کی طلاق کے۔
(ب) شعبی، حسن اور ابراہیم رحمہم اللہ یہ تمام حضرات فرماتے ہیں کہ بچے کا طلاق دینا اور غلام آزاد کرنا جائز نہیں جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے۔
(ج) جابر بن زید، ابراہیم اور ابو قلابہ رحمہم اللہ پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا شخص کی طلاق کو جائز خیال نہیں کرتے۔ شعبی اور ابراہیم رحمہم اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو خواب میں طلاق دیتا ہے اور غلام آزاد کر دیتا ہے: یہ کچھ بھی نہیں ہے۔