السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال: مالي علي حرام لا يريد جواريه باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”میرا مال مجھ پر حرام ہے“ اور اس کا ارادہ اپنی لونڈیوں کا نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو زَكَرِيَّا الْعَنْبَرِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ ⦗٥٨١⦘ السَّلَامِ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: أَتَى عَبْدُ اللهِ بِضَرْعٍ فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ادْنُوَا فَأَخَذُوا يَطْعَمُونَهُ وَكَانَ رَجُلٌ مِنْهُمْ نَاحِيَةً فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: ادْنُ فَقَالَ: إِنِّي لَا أُرِيدُهُ فَقَالَ: لِمَ قَالَ: لِأَنِّي حَرَّمْتُ الضَّرْعَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " هَذَا مِنْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ "، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ} [المائدة: ٨٧] إِذَنْ فَكُلْ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ فَإِنَّ هَذَا مِنْ خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ وَاللهُ أَعْلَمُ.مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس بکری لائی گئی تو وہ لوگوں سے کہنے لگے: قریب ہو جاؤ اور کھاؤ۔ انہوں نے کھانا شروع کر دیا۔ ایک شخص کونے میں تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قریب ہو جاؤ۔ اس نے کہا: میں ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ اس نے کہا: کیونکہ میں نے بکری کو اپنے اوپر حرام کیا ہوا ہے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ شیطان کا پیروکار ہے، اللہ کا فرمان ہے: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَيِّبٰتِ مَآ اَحَلَّ اللّٰھُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۭ اِنَّ اللّٰھَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ﴾ [سورة المائدة: 87] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم اللہ کی پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں اور تم حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ اللہ رب العزت حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔“ قریب ہو کر کھاؤ اور اپنی قسم کا کفارہ دو، یہ شیطان کی پیروی ہے۔