السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من قال: مالي علي حرام لا يريد جواريه باب: اس شخص کا بیان جس نے کہا: ”میرا مال مجھ پر حرام ہے“ اور اس کا ارادہ اپنی لونڈیوں کا نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا الْمَنِيعِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، نا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُخْبِرُ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا، فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَيَّتُنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ "، فَنَزَلَتْ {لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ} [التحريم: ١] إِلَى {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللهِ} [التحريم: ٤] لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا {وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا} [التحريم: ٣] لِقَوْلِهِ: " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، ⦗٥٨٠⦘ كِلَاهُمَا عَنْ حَجَّاجٍ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ " وَلَنْ أَعُودَ لَهُ وَقَدْ حَلَفْتُ وَلَا تُخْبِرِي بِذَلِكَ أَحَدًا " قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ قَالَهُ مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي هَذَهِ الْقِصَّةِ " وَاللهِ لَا أَشْرَبُهُ " فَأَخْبَرَ أَنَّهُ حَلَفَ عَلَيْهِ فَأَشْبَهَ أَنْ يَكُونَ وُجُوبُ الْكَفَّارَةِ تَعَلَّقَ بِالْيَمِينِ لَا بِالتَّحْرِيمِ، وَقَدْ رَوَاهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ يُخَالِفُهُ فِي بَعْضِ الْأَلْفَاظِ وَلَمْ يَذْكُرْ نُزُولَ الْآيَةِ فِيهِ.عبید بن عمیر رحمہ اللہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس شہد پینے کے لیے رک جاتے تو میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے آپس میں مشورہ کیا کہ جس کے پاس نبی ﷺ آئیں، وہ کہہ دے: ”اے اللہ کے نبی ﷺ! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے کہ آپ سے اس کی بو آ رہی ہے؟“ آپ ﷺ ان میں سے ایک کے پاس گئے تو اس نے یہ بات آپ ﷺ سے کہی کہ اس کی بو آ رہی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے زینب کے پاس شہد پیا ہے، لیکن آئندہ نہ پیوں گا۔“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ [سورة التحريم: 1] ”کیوں آپ حرام کرتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے؟“ اور ﴿إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ﴾ [سورة التحريم: 4] عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کے لیے فرمایا، اور ﴿وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا﴾ [سورة التحريم: 3] ”اور جب نبی ﷺ نے اپنی بعض بیویوں کو پوشیدہ بات کہی کہ میں نے تو شہد پیا تھا۔“
(ب) ابن جریج رحمہ اللہ عطاء رحمہ اللہ سے اس حدیث میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ہرگز دوبارہ نہ پیوں گا۔ میں قسم اٹھاتا ہوں، لیکن کسی کو خبر نہ دینا۔“
(ج) ابن عباس رضی اللہ عنہما اس قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نہ پیوں گا۔“ اس نے خبر دی کہ آپ ﷺ نے قسم اٹھائی تھی تو کفارہ کا وجوب قسم کے متعلق ہے نہ کہ تحریم کے متعلق۔