السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في موضع الطلقة الثالثة من كتاب الله عز وجل باب: اللہ عزوجل کی کتاب میں تیسری طلاق کے مقام کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14992
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ} [البقرة: ٢٢٩] فَأَيْنَ الثَّالِثَةُ؟ قَالَ: " {فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] " وَرُوِيَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَيْسَ بِشَيْءٍ.حافظ ثناء اللہ
ابو رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے کہا کہ ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [سورة البقرة: 229] طلاقیں دو ہیں، تیسری کہاں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] اچھائی کے ساتھ روکے رکھنا ہے یا احسان سے چھوڑ دینا ہے۔“
یہ روایت قتادہ کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن وہ کچھ بھی نہیں۔