حدیث نمبر: 14912
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، قَالَا: نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمِّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ عُمَرُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَغَيَّظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لِيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً مُسْتَقْبِلَةً سِوَى حَيْضَتِهَا الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا، فَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا مِنْ حَيْضَتِهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَذَلِكَ الطَّلَاقُ الْعِدَّةُ كَمَا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ " وَكَانَ عَبْدُ اللهِ طَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً فَحُسِبَتْ مِنْ طَلَاقِهَا وَرَاجَعَهَا عَبْدُ اللهِ كَمَا أَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ

سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا تو آپ ﷺ غصے ہوئے اور فرمایا: ”وہ رجوع کرے اور دوسرے حیض تک روکے رکھے۔ اگر طلاق کا ارادہ ہو تو اس حیض سے طہر کے بعد مجامعت سے پہلے طلاق دے دے۔ یہ طلاق کی مدت ہے جس میں اللہ نے طلاق کا حکم دیا ہے۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک طلاق دی جس کو شمار کیا گیا اور رسول اللہ ﷺ کے حکم پر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رجوع کر لیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14912
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»