السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: إباحة الطلاق باب: طلاق کے مباح ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14893
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ لِيَ امْرَأَةٌ كُنْتُ أُحِبُّهَا، وَكَانَ أَبِي يَكْرَهُهَا فَقَالَ لِي: طَلِّقْهَا، فَأَبَيْتُ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " طَلِّقْهَا " فَطَلَّقْتُهَا.حافظ ثناء اللہ
حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میری ایک بیوی تھی جس سے میں محبت کرتا تھا اور میرے والد اسے ناپسند کرتے تھے تو والد صاحب نے مجھے کہا: طلاق دے دو، میں نے انکار کر دیا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے انہوں نے تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے طلاق دے دو۔“ پھر میں نے اس کو طلاق دے دی۔