السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: نتف الشيب باب: سفید بال اکھاڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14829
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو إِسْحَاقَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَرْقَوَيْهِ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ ⦗٥٠٩⦘ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنْزِعُوا الشَّيْبَ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ تَعَالَى بِهَا دَرَجَةً وَكَتَبَ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَمَحَا عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سفید بال نہ اکھاڑو، اگر تم میں سے کسی کو اسلام کی حالت میں بڑھاپا آجائے (یعنی سفید بال آجائیں) تو اللہ رب العزت اس کے درجات کو بلند کرتا ہے اور اس کے لیے نیکی لکھ دیتا ہے اور برائی کو ختم کر دیتا ہے۔“