حدیث نمبر: 14815
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا ابْنُ أَبِي قِمَاشٍ، نا سُلَيْمَانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، ح وَأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا ثَابِتٌ قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَوْ شِئْتَ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي رَأْسِهِ فَعَلْتُ "، وَقَالَ: " لَمْ يَخْتَضِبْ وَقَدِ اخْتَضَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَاخْتَضَبَ عُمَرُ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِالْحِنَّاءِ بَحْتًا. ".
حافظ ثناء اللہ

ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کے خضاب کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: اگر میں نبی ﷺ کے سر کے سفید بال شمار کرنا چاہتا تو کر لیتا، آپ ﷺ نے خضاب نہیں لگایا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مہندی اور کتم بوٹی کو ملا کر خضاب لگایا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ خالص مہندی لگاتے تھے۔
(ب) سلمان کی روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میں چاہتا تو نبی ﷺ کی داڑھی کے سفید بال شمار کر سکتا تھا، فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ مہندی اور کتم بوٹی ملا کر خضاب لگاتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14815
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»