السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: غيرة النساء ووجدهن باب: عورتوں کی غیرت اور ان کے غصے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14797
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ ⦗٥٠٢⦘ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِمَّا كُنْتُ أَسْمَعُ مِنْ ذِكْرِهِ لَهَا مَا تَزَوَّجَنِي إِلَّا بَعْدَ مَوْتِهَا بِثَلَاثِ سِنِينَ وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ لَا نَصَبَ فِيهِ وَلَا صَخَبَ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جتنی غیرت میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کھائی، نبی ﷺ کی کسی بیوی کے متعلق نہ کھائی تھی، کیونکہ میں نے ان کا تذکرہ نبی ﷺ سے زیادہ سنا تھا۔ ان کی وفات کے تین سال بعد نبی ﷺ نے شادی کی اور اللہ رب العزت نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ ”انہیں جنت میں موتی کے ایک گھر کی خوشخبری دو، جس میں نہ شور ہو گا اور نہ ہی کوئی تھکن۔“