السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ عورتوں کے درمیان مکمل عدل کر سکو، خواہ تم کتنا ہی چاہو، پس تم کسی ایک کی طرف اس طرح مکمل نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو لٹکتی ہوئی چھوڑ دو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14747
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، نا مُسَدَّدٌ، نا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى النِّسَاءِ فِي مَرَضِهِ فَاجْتَمَعْنَ فَقَالَ: " إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَدُورَ بَيْنَكُنَّ فَإِنْ رَأَيْتُنَّ أَنْ تَأْذَنَّ لِي أَنْ أَكُونَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَعَلْتُنَّ " فَأَذِنَّ لَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَبَلَغَنِي أَنَّهُ سُئِلَ فَقِيلَ أِيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ فَقَالَ: " عَائِشَةُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے مرضِ الموت میں عورتوں کو پیغام بھیجا، وہ ساری جمع ہوئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اب میں تمام کے پاس آنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اگر تم مجھے عائشہ کے پاس رہنے کی اجازت دے دو۔“ تو انہوں نے اجازت دے دی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سے آپ ﷺ کو زیادہ محبوب کون ہے؟ فرمایا: ”عائشہ۔“