السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقة باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ عورتوں کے درمیان مکمل عدل کر سکو، خواہ تم کتنا ہی چاہو، پس تم کسی ایک کی طرف اس طرح مکمل نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو لٹکتی ہوئی چھوڑ دو“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ بَعْضَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُ قَوْلًا مَعْنَاهُ مَا أَصِفُ: " لَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بِمَا فِي الْقُلُوبِ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ لَا تُتْبِعُوا أَهْوَاءَكُمْ أَفْعَالَكُمْ فَيَصِيرُ الْمَيْلُ بِالْفِعْلِ الَّذِي لَيْسَ لَكُمْ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَمَا أَشْبَهَ مَا قَالُوا عِنْدِي بِمَا قَالُوا؛ لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى تَجَاوَزَ عَمَّا فِي الْقُلُوبِ وَكَتَبَ عَلَى النَّاسِ الْأَفْعَالَ وَالْأَقَاوِيلَ، فَإِذَا مَالَ بِالْقَوْلِ وَالْفِعْلِ فَذَلِكَ كُلُّ الْمَيْلِ ".امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے بعض اہل علم سے سنا، وہ کہتے تھے: میں اس کو بیان کرتا ہوں، ﴿وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا﴾ [سورة النساء: 129] ”تم ہرگز عدل نہ کر سکو گے“ جو تمہارے دلوں میں ہے، تو ﴿فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ﴾ [سورة النساء: 129] ”تم مکمل طور پر مائل نہ ہو جاؤ“ کہ تم اپنی خواہشات اور افعال کے پیچھے نہ لگ جاؤ اور یہ بالفعل میلان ہو گا جو تمہارے لیے درست نہیں کہ ﴿فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ﴾ [سورة النساء: 129] ”تم اس کو لٹکی ہوئی کے مانند چھوڑ دو“؛ کیونکہ اللہ رب العزت دل کی بات پر پکڑ نہیں کرتے لیکن افعال اور اقوال پر پکڑتے ہیں اور جو انسان بات اور فعل کے ذریعے مائل ہو گیا تو یہ مکمل میلان ہے۔