السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رخی کا اندیشہ ہو، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14736
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أُنْزِلَ فِي سَوْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَأَشْبَاهِهَا {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] وَذَلِكَ أَنَّ سَوْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتِ امْرَأَةً قَدْ أَسَنَّتْ فَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَنَّتْ بِمَكَانِهَا مِنْهُ وَعَرَفَتْ مِنْ حُبِّ ⦗٤٨٥⦘ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِشَةَ وَمَنْزِلَتِهَا مِنْهُ فَوَهَبَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ مَوْصُولًا كَمَا سَبَقَ ذِكْرُهُ فِي أَوَّلِ كِتَابِ النِّكَاحِ.حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور ان جیسی عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا﴾ [سورة النساء: 128] کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا ایسی عورت تھیں جو بوڑھی ہو گئیں اور پریشان ہوئیں کہ کہیں رسول اللہ ﷺ مجھے جدا نہ کر دیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کی محبت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں اور ان کے مرتبہ اور مقام کو جانتی تھیں تو انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے ہبہ کر دی تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو قبول کر لیا۔