السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رخی کا اندیشہ ہو، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14732
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تُوُفِّيَ عَنْ تِسْعِ نِسْوَةٍ وَكَانَ يَقْسِمُ لِثَمَانٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ فوت ہوئے تو آپ ﷺ کی نو بیویاں تھیں اور باری آٹھ کے لیے تقسیم کرتے تھے۔