السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا فلا جناح عليهما أن يصلحا بينهما صلحا والصلح خير باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رخی کا اندیشہ ہو، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کر لیں، اور صلح بہتر ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14730
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، " أَنَّ ابْنَةَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ كَانَتْ عِنْدَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَكَرِهَ مِنْهَا أَمْرًا إِمَّا كِبَرًا أَوْ غَيْرَهُ، فَأَرَادَ طَلَاقَهَا فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي وَاقْسِمْ لِي مَا بَدَا لَكَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا} [النساء: ١٢٨] الْآيَةَ ".حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو انہیں ان کی کوئی عادت اچھی نہ لگی، تکبر یا کوئی اور تھی، انہوں نے طلاق دینے کا ارادہ کر لیا۔ وہ کہنے لگیں: مجھے طلاق نہ دو اور میرے لیے اپنی مرضی سے باری تقسیم کر لینا، تو اللہ رب العزت نے یہ آیت نازل کی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا﴾ [سورة النساء: 128]۔