السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: حق المرأة على الرجل باب: مرد پر عورت کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 14728
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ أَتَزَيَّنَ لِلْمَرْأَةِ كَمَا أُحِبُّ أَنْ تَزَّيَّنَ لِي؛ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: ٢٢٨] وَمَا أُحِبُّ أَنْ تَسْتَطِفَّ جَمِيعَ حَقٍّ لِي عَلَيْهَا؛ لِأَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ} [البقرة: ٢٢٨] ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں پسند کرتا ہوں کہ عورت کے لیے زینت اختیار کروں جیسا کہ مجھے پسند ہے کہ عورت میرے لیے زینت کرے، کیونکہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة البقرة: 228] ”اور ان عورتوں کے حقوق بھی ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان کے ذمے ہیں، اچھائی کے ساتھ۔“ اور میں نہیں پسند کرتا کہ سارے میرے حقوق عورت کے ذمہ ہوں، کیونکہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾ [سورة البقرة: 228] ”مردوں کو عورتوں پر فوقیت حاصل ہے۔“