السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: حق المرأة على الرجل باب: مرد پر عورت کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 14722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ ⦗٤٨١⦘ إِسْحَاقَ، نا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، نا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَإِذَا شَهِدَ أَمْرًا فَلْيَتَكَلَّمْ بِخَيْرٍ أَوْ لِيَسْكُتْ، اسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا فَإِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَإِنَّ أَعْوَجَ شَيْءٍ مِنَ الضِّلَعِ أَعْلَاهُ، فَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهُ كَسَرْتَهُ وَإِنْ تَرَكْتَهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْجُعْفِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ حُسَيْنٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، جب اس کے پاس کوئی معاملہ آئے تو بہتر بات کہے یا خاموش رہے۔ عورتوں کے بارے میں بھلائی کی نصیحت کو قبول کرو؛ کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلیوں میں سے سب سے ٹیڑھی پسلی اوپر والی ہے۔ اگر آپ اس کو سیدھا کرنا چاہیں گے تو توڑ ڈالیں گے اور اگر اس کو چھوڑ دیں گے تو ہمیشہ ٹیڑھی رہے گی۔“