حدیث نمبر: 12672
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ فِي حِجْرِي يَتِيمًا، فَأَضْرِبُهُ؟ قَالَ: " مَا كُنْتَ ضَارِبًا فِيهِ وَلَدَكَ؟ " قَالَ: أَفَآكُلُ؟ قَالَ: " بِالْمَعْرُوفِ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، وَلَا وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ " هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْصُولًا، وَهُوَ ضَعِيفٌ، قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ.
حافظ ثناء اللہ

حضرت حسن عرنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: میری پرورش میں ایک یتیم ہے، کیا میں اسے مار سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(اس وقت) جب اپنی اولاد کو اس پر مارے“ اس نے کہا: کیا میں کھا سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”معروف طریقے سے، نہ جمع کرے اور نہ اس کے مال کو اپنے مال سے ملائے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الوصايا / حدیث: 12672
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»