السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من اختار ترك الدخول في الوصايا لمن يرى من نفسه ضعفا باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنے اندر کمزوری محسوس کرتے ہوئے وصایا کی ذمہ داری لینے سے گریز کو ترجیح دی
حدیث نمبر: 12666
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السَّاعِي عَلَى ⦗٤٦٤⦘ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ " قَالَ الْقَعْنَبِيُّ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: " كَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ، وَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”بیواؤں اور مسکین کی مدد کرنے والا، اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے“، قعنبی کہتے ہیں: میرے خیال میں [نبی کریم ﷺ نے] فرمایا: ”[وہ] قیام کرنے والے کی طرح ہے جو سست نہیں ہوتا اور روزہ دار کی طرح ہے جو افطار نہیں کرتا۔“