السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: من اختار ترك الدخول في الوصايا لمن يرى من نفسه ضعفا باب: اس شخص کا بیان جس نے اپنے اندر کمزوری محسوس کرتے ہوئے وصایا کی ذمہ داری لینے سے گریز کو ترجیح دی
حدیث نمبر: 12664
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَكَالَّذِي يَصُومُ النَّهَارَ وَيَقُومُ اللَّيْلَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ هَكَذَا مُرْسَلًا عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت صفوان بن سلیم رحمہ اللہ رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیواؤں اور یتیموں کی مدد کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے اور دن کو روزہ رکھنے والے اور رات کو قیام کرنے والے کے برابر ہے۔“