السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الأوصياء باب: اوصیاء (جنہیں وصیت کی گئی ہو) کا بیان
حدیث نمبر: 12660
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنا عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: أَوْصَى عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَكَتَبَ: " إِنَّ وَصِيَّتِي إِلَى اللهِ، وَإِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، وَإِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَنَّهُمَا فِي حِلٍّ وَبِلٍّ فِيمَا وَلِيَا وَقَضَيَا فِي تَرِكَتِي، وَإِنَّهُ لَا تُزَوَّجُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِي إِلَّا بِإِذْنِهِمَا، لَا تُحْضَنُ عَنْ ذَلِكَ زَيْنَبُ " قَوْلُهُ: لَا تُحْضَنُ، يَعْنِي لَا تُحْجَبُ عَنْهُ، وَلَا يُقْطَعُ دُونَهَا، قَالَهُ أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ.حافظ ثناء اللہ
عامر بن عبداللہ کہتے ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے وصیت کی اور لکھا: ”میری (وصیت) اللہ کے لیے، زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف ہے۔ وہ دونوں میرے ترکہ میں جو بھی انتظام اور فیصلہ کریں اس میں وہ بری الذمہ ہیں، اور میری بیٹیوں میں سے کسی کی شادی ان دونوں کی اجازت کے بغیر نہ کی جائے اور زینب کو اس سے نہ روکا جائے گا۔“