السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الوصايا— وصیت کا بیان۔
باب: الصدقة عن الميت باب: میت کی طرف سے صدقہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12632
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَحَضَرَتْ أُمَّ سَعْدٍ الْوَفَاةُ، فَقِيلَ لَهَا: أَوْصِي، فَقَالَتْ: فِيمَ أُوصِي؟ إِنَّمَا الْمَالُ مَالُ سَعْدٍ، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ سَعْدٌ، فَلَمَّا قَدِمَ سَعْدٌ فَخُبِّرَ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّهِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّهِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَنْفَعُهَا أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ "، فَقَالَ سَعْدٌ: حَائِطُ كَذَا وَكَذَا، سَمَّاهُ، صَدَقَةٌ عَنْهَا.حافظ ثناء اللہ
سعید بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوہ میں تھے کہ ان کی والدہ کی موت کا وقت آگیا، ان سے کہا گیا: وصیت کر دیں، انہوں نے کہا: میں کس چیز کی وصیت کروں؟ مال تو سعد کا ہے، وہ سعد کے آنے سے پہلے ہی فوت ہو گئیں، جب سعد رضی اللہ عنہ آئے تو ان کو والدہ کے معاملے کی خبر دی گئی، وہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو والدہ کے بارے میں بتایا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو اسے نفع دے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں“، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: فلاں صدقہ ہے، اس کا نام لیا۔